تمہارے قبرستان میں کیا دفن ہے
میرے دل میں دیکھو تمہیں یادوں کا مزار دکھاتا ہوں
باہر سے میں سب کو چپ لگتا ہوں
غازی کبھی میرے دل میں دیکھنا تمہیں میں اپنا شور دکھاتا ہوں
تمہارے قبرستان میں کیا دفن ہے
میرے دل میں دیکھو تمہیں یادوں کا مزار دکھاتا ہوں
باہر سے میں سب کو چپ لگتا ہوں
غازی کبھی میرے دل میں دیکھنا تمہیں میں اپنا شور دکھاتا ہوں

उठे थे हाथ जिनके,
उन्ही दुआओं का असर हूं,
चिराग़ सी हैं नज़रें मेरी
जैसे सुबह की पहली पहर हूं
धूल से ही तो नाता है मेरा
वहीं ठंडी हवाओं में बसर हूं
कलम से शायर कह दो
होंठों से कहर हूं,
ठहरा है दरिया जो किनारे में
वहीं बहता छोटा सा शहर हूं,
मानों तो प्यास मिले
ना मानों तो ज़हर हूं...